بانی پی ٹی آئی عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کااظہار کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کااعلان کردیا، وکلاءسے مشاورت کے بعد بھوک ہڑتال کی حتمی تاریخ کا اعلان کروں گا، پی ٹی آئی اور میرے مقدمات کے ہر بینچ میں قاضی فائز عیسیٰ کیسے آ جاتے ہیں۔اڈیالہ جیل میں صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میرے وکلا نے قاضی فائض عیسی کی ہر بینچ میں موجودگی پر اعتراض کیا ہے۔
اب ہمیں شک ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔ ہمارے وکلا کا خیال ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا اس لئے ہمارے کیسز کسی اور کو سننے چاہیے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت کیسز کی سماعت کے دوران پسند اور ناپسند نہیں ہونا چاہیے۔

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

پورا ملک کہہ رہا ہے کہ سب سے بڑا فراڈ الیکشن کروایا گیا لیکن چیف جسٹس فائز عیسی الیکشن کمیشن کی تعریف کر رہے ہیں۔ جس الیکشن کمیشن نے ملک کا سب سے فراڈ الیکشن کرایا ہمیں انصاف کیلئے اسی کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔

اگر اس فراڈ الیکشن کی تحقیقات ہو جاتی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر پر ارٹیکل 6 لگ جائے گا۔جسٹس گلزار کے 5 رکنی بینچ نے بھی کہا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ ہمارے کیس نہیں سن سکتے۔عمران خان نے کہا تھاکہ یہ پاگل ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ میری پارٹی کمزور ہوگی انہیں پتہ ہی نہیں جس پارٹی کا ووٹ بینک ہو وہ کمزور نہیں ہوتی۔ جنرل عاصم منیر نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا جنازہ نکال دیا ہے بجٹ کے بعد ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔
ان کے ساتھ وہ ہو گیا ہے جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ میں جیل سے پارٹی قائدین کو پیغام دے رہا ہوں کہ اپنے اختلافات عوام میں لے کر نہ جائیں۔ اگر آپ اختلافات عوام میں لے کر جائیں گے تو آپ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے۔بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جیل میں بیٹھے کرنل اور میجر سارا نظام چلا رہے ہیں۔ میری ٹیم کل مجھ سے ملاقات کیلئے آئی تھی تین گھنٹے تک وہ اڈیالہ جیل کے باہر اور میں اندر ان کا انتظار کرتا رہا۔
کل مجھے اپنی ٹیم سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر ملاقات ہوتی تو میں ان کے اختلافات ختم کروا دیتا۔سپرٹینڈنٹ نے جیل میں بیٹھے کرنل کے کہنے پر میری ٹیم سے ملاقات نہیں کروائی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرے حوالے سے قومی اسمبلی میں عمر ایوب اور سینیٹ میں شبلی فراز سمیت علی امین گنڈا پور بڑے تگڑے بولے اور کوشش کی۔ مذاکرات اور بات چیت کا وقت 8 فروری کو گزر گیا ہے۔
اوپر بیٹھے طاقتور یہ چاہتے تھے کہ میں گارنٹی دوں کہ اقتدار میں آکر ان پر ہاتھ نہیں ڈالوں گا۔ مذاکرات تب ہوتے ہیں جب کسی مسئلے کا حل نکلے ہم شہباز شریف سے مذاکرات کریں گے ان کی حکومت چلی جائے گی۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ایس ائی ایف سی ملک ٹھیک نہیں کر سکتی ملک کے مسائل کا حل صاف شفاف انتخابات میں ہے۔ برصغیر میں 1990 تک پاکستان سب سے آگے تھا لیکن آج سب پاکستان سے آگے ہیں اور ہمارا ملک میانمار کی طرف بڑھ رہا ہے۔
موجودہ بحران سے صرف وہ پارٹی ملک کو نکال سکتی ہے جس کے ساتھ عوام ہوں۔ ملک میں ایلیٹ کا بجٹ اگیا ہے۔ لوگ پٹ گئے ہیں ملک کو صرف ایلیٹ کنٹرول کر رہی ہے۔صدر کا کیا کام ہے کہ وہ صدر ہاوس کے اخراجات بڑھا دے بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ پہلے پاکستان ہائبرڈ تھا اب اتھرٹیٹو پر چلا گیا ہے اب ملک میں ڈکٹیٹر شپ ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے پاکستان میں کیا ہو رہا ہے یہ کانگرس اور اقوام متحدہ کی قرارداتوں کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں ہم افغانستان پر حملہ کر دیں گے جبکہ ان کے کرنل اور میجر یہاں جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔سپرٹینڈنٹ جیل ان کی نوکری کر رہا ہے یہ جب کہتے ہیں وہ میری میٹنگ کینسل کر دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *