ضلع ملیر میں جائیداد کے تنازع پر بیٹے نے اپنے قریبی ساتھی کے ساتھ مل کر سگے باپ کو قتل کر دیا جبکہ واردات کو چھپانے کے لیے اسے ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے تفتیش کے لیے ایس پی ملیر، ڈی ایس پی سکھن اور ایس ایچ او ابراہیم حیدری کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔
پولیس ٹیموں نے ٹیکنیکل اور خفیہ معلومات کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے اندھے قتل کا واقعہ حل کرلیا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتول کا بیٹا اعجاز اپنے والد کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا اور اس نے اپنے دوست شیراز کو قتل کی سپاری دے رکھی تھی۔
اعجاز نے شیراز کو قتل کے عوض 15000 روپے نقد اور ایک آئی فون دینے کی پیشکش کی تھی۔ ملزم شیراز نے رقم اور آئی فون کے لالچ میں اپنے ہی دوست کے والد محمد اقبال کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ملزم اعجاز نے جائیداد کے لالچ میں اپنے والد کے قتل جیسے سنگین جرم کی منصوبہ بندی کی۔
ملزمان نے چند روز قبل تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود لیبر کالونی میں گھر کے اندر محمد اقبال پر فائرنگ کی تھی۔ مقتول محمد اقبال موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان اعجاز ولد محمد اقبال اور شیراز کو گرفتار کر لیا، جو آپس میں قریبی دوست ہیں۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے ایک عدد پستول مع راؤنڈز، موبائل فون اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ ابراہیم حیدری میں الزام نمبر 482/26 بجرم دفعہ 302/34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کیا گیا تھا۔ دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے اندھے قتل کیس کو ٹیکنیکل اور پیشہ ورانہ انداز میں ٹریس کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں پر مزید مؤثر تفتیش کو یقینی بنایا جائے۔
پولیس کی جانب سے واقعے میں مزید ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔