بی جے پی کی سرپرستی میں خفیہ بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی آر ایس ایس سمیت تمام انتہا پسند تنظیموں نے بھارتی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
بھارتی جریدہ دی وائر کے مطابق مودی حکومت پر اثر انداز ہندوتوا تنظیم آرایس ایس کیساتھ حکومتی حلقوں کی اہم شخصیات بھی وفاداری رکھتی ہیں۔ امریکا میں قائم انڈین ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈنے 1995ء سے 2002ء تک آر ایس ایس کو لاکھوں ڈالر منتقل کیے۔
گجرات میں عیسائیوں پر تشدد اور 2002ء کے مسلمانوں کے قتل عام میں ہندوتوا تنظیموں کے ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں، بھارتی سیاسی تجزیہ نگار راجو پارولیکر کا کہنا تھا کہ امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں دہشتگرد تنظیمیں خفیہ فنڈز رکھتی ہیں۔
https://img.express.pk/media/videos/151.mp4
بھارتی جریدہ فرنٹ لائن کے مطابق بیرون ملک ہندو تنظیموں نے ریلیف کے نام پر فنڈ اکٹھا کر کے آرایس ایس کو منتقل کیا، غیر ملکی فنڈنگ پر حکومت نےعام فلاحی تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی جبکہ آر ایس ایس کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
بھارتی جریدہ دی ٹیلی گراف نے مغربی بنگال میں آر ایس ایس کیجانب سے نوجوانوں میں بھی قوم پرست نظریہ پھیلانےکا بھی انکشاف کیا۔ آرایس ایس نے بنگال میں ڈھائی لاکھ نوجوانوں تک رسائی کیلئے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں کے طلبہ کو ہدف بنالیا۔
بھارتی تجزیہ کار ڈاکٹر پنکج شریواستو کے مطابق فنڈنگ کے خفیہ ذرائع بے نقاب ہونے کے خوف سے آر ایس ایس رجسٹریشن سے فرار اختیار کر کے معاشرے میں نفرت پھیلانے میں مصروف ہے۔