July 15, 2026
attaullah-tarar1772134185-0-600x450.webp.webp


اسلام آباد:

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے کوئی ملازم بے روزگار نہ ہو۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس سرمد علی کی صدارت میں  ہوا، جس  میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں جو این سی سی آئی اے نے اعداد و شمار کمیٹی کو دیے اس سے لا تعلقی ظاہر کر دی ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی کو مس گائیڈ کیا نہیں جا سکتا۔

سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ جس افسر کے دستخط سے وہ اعداد و شمار پیش کیے گئے اس افسر کو بلا لیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا اشتہارات  پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے 2021ء کی پالیسی 2022ء میں ترمیم ہوئی۔ ڈیجیٹل میڈیا اس ملک میں خودکفیل فورم ہے۔ تھرڈ پارٹی کے ذریعے ویوز اور دیگر عوامل کی توثیق کا نظام لایا گیا۔ وفاق نے جو پالیسی بنائی مختلف صوبوں نے بھی اسے اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو فنانشل سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم اتنی ایڈورٹائزمنٹ کرتے ہیں جتنی ہماری ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری سب سے بڑی ترجیح ایمپلائیز کی ویلفیئر ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے ہماری کوشش ہے کہ کوئی ملازم بے روزگار نہ ہو۔ اسلام آباد کے بیٹ رپورٹرز اور صحافی میری ذمہ داری ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک نیوز چینل نے کچھ ملازمین کو نکالا تو ہم نے ان کے اشتہار بند کر دیے۔ ہمارا موقف ہے کہ ہم اشتہارات جاری کریں تو ملازمین کی بہبود ہو سکے۔ جب ہماری بات ہوئی تو انہوں نے کافی ملازمین کو واپس بحال کیا۔ پی بی اے کے ساتھ ہمارا ایس او پی ہے کہ جب بھی حکومت واجبات ادا کرے گی میڈیا ہاؤسز اپنے ملازمین کے واجبات کلیئر کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 12 سال کے بچے سے لے کر 70 سال تک کے بزرگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو فیڈ کرنے والا میڈیم اخبار یا ٹیلی ویژن ہے۔ اگر ہم تیزی سے آگے بڑھنے والے میڈیم کو مزید تقویت دیں گے تو وہ اخبار اور ٹی وی کی قیمت پر ہوگی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سب سے پہلا حق اخبار کے ڈیجیٹل شعبے کا ہے۔ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ہماری کوشش ہوگی کہ اخبارات کی ڈیجیٹل شمولیت کو بڑھایا جائے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی قیمت پر ڈیجیٹل میڈیا کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی ٹی این ای کے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے معاملات حل ہو گئے ہیں، جلد نوٹیفیکیشن جاری ہو جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے نیشنل پریس ٹرسٹ کے کردار اور ورکنگ کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی جب کہ اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پر آنے والے اخراجات پر بھی غور کیا گیا۔

سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں پرنٹ میڈیا کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء میں گوگل اینالیٹک، ویب گرافکس اور دیگر رپورٹس شامل ہیں۔ تھرڈ پارٹی کا نظام بھی اس پالیسی میں وضع کیا گیا ہے۔ اخبارات کے پلیٹ فارمز کو مزید سپورٹ فراہم کریں گے۔ انہوں نے ریجنل اخبارات کے حوالے سے پی آئی ڈی کی ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، جو ریجنل اخبارات کی سرکولیشن کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

سینیٹر سرمد علی نے اس موقع پر کہا کہ میڈیا لسٹ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

عطا اللہ تارر نے کہا کہ اے بی سی اور رجسٹرار آفس کو ضم کرکے ایک ادارہ بنایا جائے گا۔ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) میں اصلاحات لا رہے ہیں، اس مقصد کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ اے بی سی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور شفاف بنایا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلھے شاہ کی شخصیت پر بننے والی فلم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلھے شاہؒ کے نام سے ایسی فلم نہیں آنی چاہیے تھی۔ فلم کے لیے ’بلھے شاہ‘کا نام استعمال کرنے کی وجوہات معلوم کی جانی چاہییں۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تاریخ ساز شخصیت کے نام پر فلم سینسر بورڈ نے کس طرح پاس کی، اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ حضرت بلھے شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کا کلام آج بھی لوگوں کو ازبر ہے۔ بلھے شاہ نے ہمیشہ محبت کا سبق دیا ہے۔ ایک فلم کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک آدمی کے نام کے ساتھ بلھے شاہ کا نام جوڑا گیا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ سینسر بورڈ نے کیسے اس فلم کو منظور کیا؟ ۔

اس موقع پر چیئرمین مرکزی فلم سینسر بورڈ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جواب دیا کہ اس فلم میں ایک شخص کا نام بلھے رکھا گیا جو مافیا کے خلاف لڑتا ہے۔ اس پہ ایک کمیٹی بنا دی جائے، جس کی سربراہی پرویز رشید کریں۔ اس میں فلم پروڈیوسر اور سینسر بورڈ کو بھی بلایا جائے۔

اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے ذیلی کمیٹی بنانے کی مخالفت کر دی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسی کمیٹی میں یہ معاملہ رکھا جائے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ یہاں چیئرمین کمیٹی تیاری کے ساتھ نہیں آئے۔ ان کا جواب تسلی بخش نہیں۔ اس فلم میں جو بلھا بنا وہ بندوق لہرا کر کہتا ہے، وہ کل کا بلھا تھا میں آج کا بلھا ہوں۔ چیئرمین سینسر بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس عمل پر کیا ایکشن لیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ادارہ بن چکا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ اس وقت پورے پاکستان میں صرف پی ٹی وی اسپورٹس پر نشر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا کوئی دوسرا ٹیلی ویژن چینل فیفا ورلڈ کپ کی نشریات پیش نہیں کر رہا۔ پی ٹی وی میں اس وقت تقریباً 216 ملازمین کنٹریکٹ کی بنیاد پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کی ضروریات کے مطابق کنٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی کی جاتی ہے۔ نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ معروف اینکرز کو بھی پی ٹی وی کی اسکرین پر لایا گیا ہے۔ پی ٹی وی کا بورڈ مکمل طور پر بااختیار ہے اور تمام اہم فیصلے بورڈ کی منظوری سے کیے جاتے ہیں۔ پی ٹی وی بورڈ میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ پی ٹی وی میں اس وقت بروقت تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ پچھلے پورے سال کے دوران پی ٹی وی میں کسی بھی ملازم کی تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر نہیں ہوئی۔

سیکرٹری اطلاعات نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ پی ٹی وی میں پچھلے پورے مالی سال کے دوران کسی بھی ملازم کی پنشن اور تنخواہ میں تاخیر نہیں ہوئی۔ اپنے اخراجات کم کر کے تقریباً 300 ریٹائرڈ ملازمین بالخصوص بیواؤں کو ادائیگی کی جا رہی ہیں۔

بعد ازاں کمیٹی نے اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مسائل کے حل کے لیے بھی کیے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی۔

سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ پچھلے مالی سال کے دوران پنشن اور تنخواہوں کی مد میں سب سے زیادہ رقم پی بی سی کو ادا کی گئی۔ رواں سال پی ٹی وی اپنی پروڈکشن دوبارہ شروع کر دے گا۔

اجلاس میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی مختلف عمارتوں سے ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے اقدامات کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔