July 18, 2026
argentina1784357473-0-600x450.webp.webp

فیفا ورلڈ کپ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کی فتوحات کے ساتھ ریفری کے متنازع فیصلوں پر بھی بحث زور پکڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مصر، انگلینڈ اور دیگر ٹیموں کے شائقین و مبصرین کا مؤقف ہے کہ اہم مواقع پر کیے گئے بعض فیصلوں سے ارجنٹینا کو فائدہ پہنچا۔

پری کوارٹر فائنل میں مصر نے 2-3 کی شکست کے بعد فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر اور ان کی ٹیم پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔

مصری کوچ حسام حسن کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور ایسا محسوس ہوا جیسے عالمی چیمپئن کو ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔

مصر نے وی اے آر کے ذریعے اپنا ایک گول مسترد ہونے، پنالٹی نہ ملنے اور ارجنٹینا کے فاتحانہ گول کو برقرار رکھنے پر بھی اعتراض کیا۔

سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف بھی چند فیصلے زیر بحث رہے۔

اینزو فرنینڈیز کو سخت ٹیکل کے باوجود وارننگ نہ ملنے اور لیونل میسی کے مبینہ فاؤل کے باوجود فیصلہ ارجنٹینا کے حق میں جانے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

مزید سوالات اس وقت اٹھے جب فرانس اور مراکش کے کوارٹر فائنل کے لیے تمام آن فیلڈ آفیشلز اور لیڈ وی اے آر کا تعلق ارجنٹینا سے نکلا اگرچہ اس میچ میں کوئی متنازع فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب لیونل میسی کے خلاف ابتدائی مرحلے میں ممکنہ ریڈ کارڈ نہ دکھائے جانے، قرعہ اندازی کے طریقہ کار اور ارجنٹینا کو نسبتاً آسان ناک آؤٹ راستہ ملنے پر بھی بحث جاری ہے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ متنازع فیصلے ضرور ہوئے لیکن انہیں کسی منظم سازش یا ارجنٹینا کے حق میں جانبداری کا ناقابل تردید ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔