August 5, 2026
us-lift-sanctions-from-fly-baghdad1785958926-0-600x450.webp.webp

امریکا نے عراق کی نجی فضائی کمپنی فلائی بغداد پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری تازہ ترین فہرست میں فلائی بغداد اور اس کے زیر استعمال دو طیاروں کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔

تاہم کمپنی کے مبینہ مالک بشیر عبد الکاظم علوان الشبانی پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رکھی گئی ہیں اور اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت بھی سامنے نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے جنوری 2024 میں عراق کی ایئرلائن ’’فلائی بغداد‘‘ پر ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اُس وقت امریکا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلائی بغداد کے چند طیاروں اور اس کے مالک پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے جنگجوؤں کو اور اسلحے کو عراق، شام اور لبنان پہنچانے کے لیے سفری سہولیات فراہم کرتے تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اُس وقت یہ الزام بھی لگایا تھا کہ کمپنی کے ذریعے ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی تھی تاہم فلائی بغداد اور عراقی حکومت نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلائی بغداد نے محکمہ خزانہ کے نظرثانی کے عمل سے گزرنے کے بعد اپنی کاروباری سرگرمیوں اور آپریشنز میں نمایاں تبدیلیاں ثابت کیں۔

عہدیدار کے بقول فلائی بغداد نے اپنے آپریشنز میں ایسی بڑی تبدیلیاں کی ہیں جن کے بعد اسے پابندیوں کی فہرست میں برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

تاہم امریکی حکام نے واضح کیا کہ فلائی بغداد کو پابندیوں سے نکالنے کا مطلب ایران، اسلامی انقلابی گارڈ کی قدس فورس، یا امریکا کی دہشت گرد تنظیموں سے متعلق پالیسی میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ صرف کمپنی کے کیس کا جائزہ لینے اور اس کی موجودہ سرگرمیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے جبکہ ایران اور اس سے منسلک تنظیموں پر امریکی پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔

امریکی پابندیاں ختم ہونے سے فلائی بغداد کے لیے بین الاقوامی فضائی آپریشنز، طیاروں کی لیز، انشورنس، اسپیئر پارٹس کی خریداری اور غیر ملکی مالیاتی لین دین میں آسانی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔