July 7, 2026
attack-on-ship-strait-of-hurmuz1782410152-0-600x450.webp.webp

خلیجِ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر پر ہونے والے حملے کے بعد اس واقعے کی وجوہات پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں جبکہ تہران سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے اس حملے کو ایرانی بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں سے ممکنہ طور پر جوڑ دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں مقیم سیاسی و دفاعی تجزیہ کار حسین رویوران نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آئل ٹینکر کو کس وجہ سے نشانہ بنایا گیا، کیونکہ ایران کی جانب سے اس واقعے پر کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ممکنہ امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ متعلقہ جہاز غیر ارادی طور پر ایسے سمندری علاقے میں داخل ہو گیا ہو جہاں ایرانی بحری ٹیمیں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں مصروف تھیں۔

حسین رویوران کے مطابق خلیجِ عمان کے قریب بعض حساس سمندری علاقوں میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا خدشہ موجود ہے، اس لیے اگر کسی تجارتی جہاز نے ان علاقوں میں غیر متوقع نقل و حرکت کی ہو تو اس سے ایرانی کارروائیوں میں خلل یا خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا اور واقعے کی اصل نوعیت اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک متعلقہ حکام اپنی تحقیقات مکمل نہ کر لیں یا باضابطہ معلومات جاری نہ کریں۔

دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی ذرائع اور امریکی حکام کی جانب سے بھی الگ الگ دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں، اس لیے ان علاقوں میں پیش آنے والا ہر واقعہ عالمی تجارت، تیل کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔