July 12, 2026
trumpss1783842933-0-600x450.webp.webp

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ائیرفورس ون طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات کی خبریں شائع ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ان رپورٹس سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے متعدد صحافیوں کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر دی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک ٹائمز کے چار صحافیوں کو عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں اور انہیں گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہو کر گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کو سونپ دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کاش پٹیل نے اس معاملے پر وائٹ ہاؤس میں کئی گھنٹے گزارے اور مختلف حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کا سفر نئے ائیرفورس ون طیارے میں کیا تھا، تاہم واپسی پر انہوں نے اچانک پرانے ائیرفورس ون میں سفر کیا۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے آخری لمحوں میں خفیہ سروس کی سفارش پر طیارہ تبدیل کیا کیونکہ نئے طیارے میں بعض اہم سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی ٹیکنالوجی مکمل طور پر نصب نہیں تھی۔

محکمہ انصاف نے اس معاملے پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقات کا مقصد صحافیوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان افراد کا تعین کرنا ہے جنہوں نے حساس اور خفیہ معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ امریکا میں قومی سلامتی، سرکاری معلومات کے افشا اور صحافتی آزادی کے درمیان توازن سے متعلق نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔