July 14, 2026
untitled-21784013860-0-600x450.webp.webp

لاہور کے شاہی قلعہ میں واقع دنیا کی سب سے بڑی تاریخی پکچر وال کی بحالی صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ صدیوں پرانے فن، تاریخ اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی ایک طویل اور پیچیدہ سائنسی کاوش تھی۔

تقریباً نو برس تک جاری رہنے والے اس منصوبے میں شامل ماہرین کے مطابق ان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ تھا کہ وہ کسی بھی تاریخی نقش یا تصویر کو اپنی مرضی سے دوبارہ تخلیق نہیں کر سکتے تھے۔ ہر ٹائل، ہر نقش اور ہر رنگ کو صرف انہی شواہد کی بنیاد پر بحال کیا گیا جو وقت کی گرد میں کہیں نہ کہیں محفوظ رہ گئے تھے۔ یہی احتیاط اس منصوبے کو پاکستان میں تاریخی ورثے کے تحفظ کی ایک منفرد مثال بناتی ہے۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور آغا خان کلچرل سروس پاکستان کے اشتراک سے مکمل ہونے والے اس منصوبے کے بعد تاریخی پکچر وال کو دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بحالی دراصل مغل دور کے فن تعمیر، کاشی کاری اور دیواری آرائش کو آئندہ نسلوں تک محفوظ منتقل کرنے کی کوشش ہے۔

سینئر کنزرویشن سائنسدان زینہ ناصر کے مطابق تقریباً 500 میٹر طویل اور 60 سے 70 فٹ بلند یہ پکچر وال دنیا کی سب سے بڑی تاریخی دیواری موزائیک سمجھی جاتی ہے۔ مغل دور میں تعمیر کی گئی اس دیوار پر رنگین ٹائلوں، فریسکو، موزائیک اور آرائشی نقش و نگار کے ذریعے اس دور کی تہذیب، معاشرت، عقائد اور فنون کی عکاسی کی گئی ہے۔

ان کے مطابق دیوار پر گھوڑوں، ہاتھیوں، اونٹوں، ہرنوں اور دیگر جانوروں کے علاوہ عام لوگوں، شاہی قافلوں، خوش نویسوں اور فرضی مخلوقات جیسے پریوں اور جنات کی تصاویر بھی موجود ہیں، جن پر فارسی اساطیر کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تصویریں صرف آرائش نہیں بلکہ مغل دور کے طرزِ زندگی اور فکری روایت کی دستاویز بھی ہیں۔

منصوبے پر کام کرنے والے لیڈ کنزرویٹر راحت اللہ کہتے ہیں کہ بظاہر دیوار پر تصویریں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں، لیکن عملی طور پر اس کا بڑا حصہ انتہائی پیچیدہ جیومیٹرک ڈیزائن پر مشتمل ہے۔ ان کے بقول اس قدر باریک اور وسیع جیومیٹری موجود ہے کہ صرف اسی موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ برطانوی دور میں دیوار کے کئی حصوں پر پلاسٹر کر دیا گیا تھا، جس سے اصل نقش و نگار مکمل طور پر چھپ گئے تھے۔ بحالی کے دوران جب یہ پلاسٹر احتیاط سے ہٹایا گیا تو اس کے نیچے سے اصل ڈیزائن اور جیومیٹری کے آثار سامنے آئے، جنہوں نے گم شدہ حصوں کی بحالی میں رہنمائی فراہم کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر تصویر اپنی الگ کہانی رکھتی ہے، اس لیے کسی بھی نقش کو اپنی مرضی سے دوبارہ بنانا ممکن نہیں تھا۔ اگر تاریخی شواہد موجود نہ ہوں تو نئی تصویر یا ڈیزائن شامل کرنا تاریخ میں مداخلت کے مترادف ہوتا، اسی لیے صرف انہی حصوں پر کام کیا گیا جہاں اصل شواہد دستیاب تھے۔

سینئر کنزرویٹر سیدہ ماہ نور کے مطابق بحالی کے پورے عمل میں بنیادی اصول یہی رہا کہ اصل تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جائے اور غیر ضروری تعمیر نو سے گریز کیا جائے۔ جہاں ٹائلیں مکمل طور پر ضائع ہو چکی تھیں وہاں دیوار پر باقی رہ جانے والے معمولی نشانات، نقوش اور آثار کی مدد سے ان کی اصل شکل اور ساخت کا تعین کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہر پینل پر کام شروع کرنے سے پہلے تاریخی تحقیق، تفصیلی ڈرائنگ، استعمال شدہ مواد کی جانچ اور رنگوں کی کیمیائی آزمائش کی جاتی تھی۔ کوشش یہی رہی کہ وہی خام مال اور رنگ استعمال کیے جائیں جو مغل دور میں رائج تھے تاکہ بحال شدہ حصہ اصل فن پارے سے ہم آہنگ رہے۔

کنزرویشن ٹیم کے مطابق نئی تیار کی جانے والی ٹائلوں کو رنگ، بناوٹ، ساخت اور خام مال کے اعتبار سے اصل مغل دور کی ٹائلوں کے زیادہ سے زیادہ قریب رکھا گیا۔ ہر ٹائل کو نصب کرنے سے پہلے اس کا اصل نمونے سے باریک بینی سے موازنہ کیا جاتا تھا تاکہ نئے اور پرانے کام میں واضح فرق محسوس نہ ہو۔

سرفیس کنزرویٹر زہرہ امین کہتی ہیں کہ پکچر وال پر موجود موزائیک اور فریسکو اپنی نوعیت میں منفرد ہیں اور ان کی مکمل نقل تیار کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایک کنزرویٹر کے لیے سب سے مشکل لمحہ وہ ہوتا ہے جب تاریخی شواہد نہ ملنے کی وجہ سے کسی حصے کو ادھورا ہی چھوڑنا پڑے۔

ان کا کہنا ہے کہ دیوار کے کئی حصوں میں ٹائلیں اور آرائشی عناصر مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے، لیکن چونکہ ان کے بارے میں کوئی مستند ثبوت موجود نہیں تھا، اس لیے انہیں دوبارہ تخلیق کرنے کے بجائے اسی حالت میں محفوظ رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہی اصول تاریخی اصالت برقرار رکھنے کی بنیاد ہے۔

زینہ ناصر کے مطابق شاہی قلعہ کی پکچر وال کو سب سے زیادہ نقصان بارش کے پانی، نمی، ناقص نکاسی آب اور طویل عرصے تک مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ سو برس تک قلعے کے نکاسی آب کے نظام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جبکہ برطانوی دور میں مغل ڈرینیج نظام میں تبدیلیوں کے باعث بارش کا پانی مسلسل دیوار کی طرف منتقل ہوتا رہا، جس سے تاریخی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

کنزرویشن ٹیم کا کہنا ہے کہ بحالی کے دوران ایسے مواد استعمال کیے گئے جو موجودہ موسمی حالات کا بہتر مقابلہ کر سکیں، تاہم تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے مستقبل میں باقاعدہ دیکھ بھال، مؤثر نکاسی آب اور مسلسل نگرانی ناگزیر ہوگی۔
شاہی قلعہ کی پکچر وال کی بحالی کا منصوبہ 2015 میں دستاویز بندی سے شروع ہوا جبکہ باقاعدہ بحالی کا کام 2018 میں آغاز ہوا۔ تقریباً نو برس تک جاری رہنے والے اس منصوبے پر تقریباً 15 لاکھ امریکی ڈالر لاگت آئی، جس میں حکومت پنجاب اور مختلف بین الاقوامی اداروں نے مالی تعاون فراہم کیا۔

مغل دور میں تعمیر کی گئی تقریباً 475 میٹر طویل اور 17 میٹر بلند اس تاریخی دیوار پر قریب دو ہزار آرائشی پینلز موجود ہیں۔ ان میں شاہی جلوس، شکار کے مناظر، جانور، پرندے، پھول، جیومیٹرک نقش و نگار اور دیگر آرائشی ڈیزائن شامل ہیں، جو آج بھی مغل دور کی فنکارانہ مہارت اور ثقافتی ورثے کی گواہی دیتے ہیں۔