تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنوب مشرقی ایران میں ایک فوجی اڈے پر کیے گئے میزائل حملوں میں کم از کم 7 ایرانی فوجی ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حملہ سیستان و بلوچستان صوبے کے علاقے ایرانشہر کے قریب واقع بمپور گیریژن پر کیا گیا، جہاں امریکی میزائلوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 13 امریکی میزائل فوجی بیرکوں پر داغے گئے، جن کے نتیجے میں 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔
فوج کے مطابق حملے میں فوجی مہمان خانہ، گارڈ پوسٹس اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے کا فیصلہ کن جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا اور اس کارروائی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران جنوبی ایران پر امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن طریقے سے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی ایران ملک کا دھڑکتا ہوا دل ہے اور حکومت وہاں کے شہریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔
امریکی حکام کی جانب سے ان ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی کے باعث خطے میں مزید تصادم کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔