July 15, 2026
modi-and-rss-15-07-261784089783-1-600x450.webp.webp

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس  کی رام مندر فراڈ پر مجرمانہ خاموشی کے بعد اتراکھنڈ مندر میں بھی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

بھارت کو نام نہاد ہندو ریاست بنانے کی دعویدار مودی حکومت نے اپنے مذہب کو بھی کرپشن کی نذر کر دیا  ہے، جہاں رام مندر کرپشن کیس کے بعد بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے مندر میں بھی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئی ہیں۔

بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اتراکھنڈ مندر کے فنڈز کو وی آئی پی مہمانوں کی میزبانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیقات میں 60 ہزار روپے بی جے پی کی ریاستی سیکریٹری نیہا جوشی کے نام پر خرچ  کیے جانے کا انکشاف ہوا ہوا ہے۔  بی جے پی کی اعلیٰ قیادت رام مندر چوری کے  معاملے کی ذمہ داری سے کیسے بچ سکتی ہے؟

دوسری جانب بھارتی وزیر پریانک کھرگے نے رام مندر کیس پر آر ایس ایس سے سر عام معافی کا مطالبہ کر دیا  ہے۔

علاوہ ازیں کمیونسٹ پارٹی کے ضلعی سیکریٹری سوریا کانت پانڈے کا بھی کہنا  ہے کہ اگر آر ایس ایس ٹرسٹ کو لوٹ مار سے نہیں بچا سکی تو دوبارہ ان افراد کو شامل کرنا قابل اعتراض ہے۔

دی وائر کے مطابق رام مندر میں سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے بھی بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ رام مندر عطیات چوری کے معاملے کے ایک ماہ بعد بھی مودی نے اب تک عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دیا۔

بھارتی رکن صوبائی اسمبلی ساگریکا گھوش نے مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام مندر کیس پر سخت تنقید کے باوجود مودی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلنا انتہائی تشویشناک ہے۔