August 4, 2026
umer-2026-08-02t223525-0881785735426-0-600x450.webp.webp


کراچی:

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے جدید اوپیائیڈ ایگونِسٹ مینٹیننس تھراپی (OAMT) سینٹر کا افتتاح کردیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت و آبادی بہبود کا کہنا تھا کہ یہ سینٹر منشیات کے عادی افراد کو بتدریج نشے سے نجات دلانے اور انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مدد فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینٹر میں علاج کے ساتھ طبی نگرانی، کونسلنگ اور بحالی کی مکمل سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سینٹر میں ماہر ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ طبی عملہ موجود ہوگا جو مریضوں کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ایچ آئی وی اسکریننگ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کیسز سامنے لائے جا سکیں اور بروقت علاج ممکن ہو۔

دریں اثنا وزیر صحت سندھ نے جناح اسپتال کراچی میں مبینہ غفلت سے مریض کی ہلاکت کے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔ 28 جولائی کی رات جناح اسپتال سے 65 سالہ مریض کو انٹیوبیٹ کیے بغیر این آئی سی وی ڈی منتقل کیا گیا جس کے باعث اسکی موت ہوگئی تھی۔

این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کے مطابق این آئی سی وی ڈی پہنچتے وقت مریض کی حالت شدید نازک تھی، مریض کو این آئی سی وی ڈی میں سی پی آر دیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکا، مریض کو بروقت انٹیوبیٹ کردیا جاتا تو اسکی حالت نہیں بگڑتی۔

وزیر صحت سندھ کا کہنا تھا کہ اگر جناح اسپتال میں کسی مریض کی جان غفلت کے باعث گئی ہے تو اس واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کے بعد ہی ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے گا۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ایک انسان کی موت بھی انتہائی افسوسناک ہے اور کسی مریض کی موت کو بڑا مسئلہ نہ سمجھنا انتہائی غلط بیان ہے، مریض کی موت کو معمولی قرار دینے والے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔