امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد امریکا میں ایک نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ویڈیو میں ٹرمپ کو ایک ڈاکٹر کے روپ میں دکھایا گیا ہے جو اپنے ناقدین کا مبینہ طور پر ’ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم‘ نامی فرضی بیماری کا علاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کئی معروف امریکی شخصیات کی فرضی تصاویر اور آوازیں استعمال کی گئی ہیں، جن میں اداکار رابرٹ ڈی نیرو، وھوپی گولڈ برگ، ایڈورڈ نارٹن، جولیا رابرٹس اور کامیڈین روزی او ڈونیل شامل ہیں۔
ویڈیو میں ان شخصیات کو اس انداز میں دکھایا گیا ہے جیسے وہ ٹرمپ کی مخالفت پر پچھتاوا ظاہر کر رہی ہوں۔
ویڈیو میں ٹرمپ سفید ڈاکٹر کوٹ اور گلے میں اسٹیتھو اسکوپ پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ناقدین ایک فرضی ذہنی کیفیت میں مبتلا ہیں، جسے وہ “ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم” قرار دیتے ہیں۔ ویڈیو میں مزاحیہ انداز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ اس کا علاج “جعلی خبروں سے دور رہنا، دعا کرنا اور ڈائٹ کوک پینا” ہے۔
دوسری جانب ویڈیو میں شامل معروف امریکی کامیڈین روزی او ڈونیل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت مزید خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی آئین کی 25ویں ترمیم ایسے ہی حالات کے لیے موجود ہے اور اس پر عمل درآمد پر غور کیا جانا چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متنازع مواد شیئر کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ خود کو حضرت عیسیٰؑ کے روپ میں بیماروں کو شفا دیتے، پوپ کے لباس میں، اور ایک بادشاہ کے انداز میں پیش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر چکے ہیں، جن پر انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے اس تازہ ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو اپنی رائے اور اندازِ اظہار کے مطابق مواد شیئر کرنے کا حق حاصل ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ “ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم” ایک ایسی اصطلاح ہے جسے صدر کے ناقدین پر طنز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ویڈیو میں جن مشہور شخصیات کی مصنوعی تصاویر اور آوازیں استعمال کی گئیں، کیا ان سے اس کی اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔
https://x.com/realDonaldTrump/status/2072681271566708832
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز اظہارِ رائے، سیاسی طنز اور ڈیجیٹل اخلاقیات سے متعلق نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں، خصوصاً جب ان میں حقیقی افراد کی مشابہت اور آواز استعمال کی جائے۔