July 3, 2026
saudi-arabia1783057817-0-600x450.webp.webp

ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے ابھرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کو بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔

امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے خلیجی ممالک کو معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے نمایاں نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے باعث خلیجی ریاستوں کی برآمدات، تجارتی سرگرمیاں اور علاقائی سلامتی کا احساس متاثر ہوا، جس کے بعد نئے سکیورٹی اور سیاسی تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے روایتی دائرہ کار سے باہر ایک نیا علاقائی بلاک تشکیل پا رہا ہے، جس میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ اور مصر شامل ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد خطے میں باہمی تعاون، سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس میں اس ممکنہ اتحاد کو توسیع پذیر ’اسلامک نیٹو‘ کا نام دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے اتحاد میں شامل ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پر اس اصطلاح کی تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی علاقائی صف بندی میں متحدہ عرب امارات اس اتحاد کا حصہ نظر نہیں آ رہا، جسے مبصرین خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی اور تزویراتی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اتحاد عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور دفاعی تعاون پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاحال سعودی عرب یا دیگر متعلقہ ممالک کی جانب سے اس نئے اتحاد کی مکمل تفصیلات یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم بین الاقوامی حلقے اس پیش رفت کو خطے میں اہم سفارتی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔