July 5, 2026
world-bank1777430020-0-600x450.webp.webp

ورلڈبینک نے اپنی تازہ ’’اسٹرینتھننگ فسکل فیڈرلزم‘‘ رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پاکستان میں صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر اضلاع کے درمیان ترقیاتی و مالی وسائل کی تقسیم میں نمایاں عدم مساوات برقرار ہے،جس کے باعث انسانی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری متاثر ہورہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یہ فرق سب سے زیادہ ہے، جہاں کوئٹہ کو دیگر اضلاع کے مقابلے میں فی کس 475 فیصد زیادہ سرکاری اخراجات ملتے ہیں، جبکہ پنجاب میں لاہورکو 440 فیصد،خیبر پختونخوا میں پشاورکو 335 فیصد اور سندھ میں کراچی کو 178 فیصد زیادہ فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق اگرچہ 2010 کے ساتویں این ایف سی ایوارڈکے بعدصوبوں کے وسائل میں اضافہ ہوا اور 2009 کے مقابلے میں دارالحکومتوں اوردیگر اضلاع کے درمیان اخراجاتی فرق میں کچھ کمی آئی، تاہم صوبائی دارالحکومت آج بھی وسائل کاغیر متناسب حصہ حاصل کررہے ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیاکہ بلوچستان جیسے شورش زدہ صوبے میں کوئٹہ کو دیگر اضلاع کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ فی کس وسائل ملتے ہیں جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں پسماندگی اورروزگارکے محدودمواقع بدستور سنگین مسئلہ ہیں۔

ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ اضلاع کو بجٹ کی تقسیم سماجی و معاشی ضروریات، غربت، تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کے بجائے دیگر عوامل کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خوشحال اضلاع کومسلسل زیادہ وسائل مل رہے ہیں، جبکہ غریب اضلاع ترقی کے حوالے سے مزید پیچھے رہ جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقامی حکومتوں کامالی حصہ بھی مسلسل کم ہورہاہے، 2005 میں مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کاحصہ تقریباً 10 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر صرف 4۔7 فیصد رہ گیا،جبکہ آئینی تقاضوں کے باوجودبیشترصوبوں میں صوبائی مالیاتی کمیشن فعال نہیں ہوسکے۔

 ورلڈ بینک نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود نتائج پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوانے کم اخراجات کے باوجودتعلیم کے شعبے میں بہترکارکردگی دکھائی،جبکہ سندھ اور بلوچستان میں اخراجات بڑھنے کے باوجوداسکولوں میں داخلوں اور خواندگی کی شرح میں کمی دیکھی گئی۔