ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی کئی روزہ آخری رسومات سے قبل ملک بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تقریبات پرامن طریقے سے منعقد ہو سکیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور مختلف ممالک سے آنے والے اعلیٰ حکومتی، مذہبی اور سیاسی وفود کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج کی زمینی، بحری اور فضائی افواج نے ملک کی سرحدوں اور حساس مقامات پر اپنی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کے مطابق ایران کی فضائی دفاعی فورس بھی مسلسل ملک کی فضائی حدود کی نگرانی کر رہی ہے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر فوری ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں ایران کے اندر اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے، اسی لیے سکیورٹی اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایران اپنی اعلیٰ قیادت کی آخری رسومات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کر رہا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور تقریبات کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔