لندن: برطانوی جریدے اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو براہِ راست سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی موجودگی پر تشویش ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل، ترکیہ کے سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی توازن کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔
اکانومسٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کیے جانے کے فیصلے نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاست دان اب ترکیہ کا ذکر ایران کے ساتھ کرتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی واضح ہوتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ترکیہ کو جدید ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے ممکنہ فیصلے نے بھی اسرائیل میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اسرائیل خطے میں اپنی فوجی برتری برقرار رکھنے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
برطانوی جریدے کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ اب دونوں ممالک ایک دوسرے کو خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کرنے لگے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات شام، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، علاقائی اتحادوں اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔