July 3, 2026
2714248-electricx-1727578503-600x450.webp.webp


کراچی:

پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ کم ہونے کا حکومتی دعویٰ گمراہ کن نکلا، پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مزید سنگین ہوگیا، دس ماہ میں قرضوں میں کمی کے بجائے 240 ارب کا اضافہ ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ری فنانسنگ اور ری سائیکلنگ سے گردشی قرضہ کم نہیں بلکہ صرف تبدیل ہوا ہے۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء کے ابتدائی 10ماہ کے دوران نئے گردشی قرض میں 240 ارب روپے کا اضافہ ہوا یہ قرضہ 1854 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

Image

رپورٹ کے مطابق حکومتی اداروں نے پاور سیکٹر کے مجموعی گردشی قرضوں کے حجم میں 23 فیصد کمی ظاہر کی ہے جب کہ مالی سال 2026ء کے ابتدائی 10ماہ کے دوران نئے گردشی قرضوں کے حجم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگے پاور پرچیز ایگریمنٹس، کمر توڑ کیپسٹی چارجز اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیاں پاور سیکٹر خسارے کی بنیادی وجہ ہیں۔

Despite repeated promises to tackle Pakistan’s power sector crisis, circular debt remains deeply entrenched. The decline in stock of circular debt by 23% is good news, but that decline partly stems from shifting liabilities into new financing arrangements rather than addressing… pic.twitter.com/ZkVRl9b1Ru

— Economic Policy & Business Development (@EPBDT) July 2, 2026

رپورٹ کے مطابق فنانس ایڈجسٹمنٹ سے بجلی کے گردشی قرضوں کو وقتی طور پر دبایا جارہا ہے۔