July 15, 2026
faaleke1784099066-0-600x450.webp.webp

امریکا کی ریاست یوٹا میں ایک مسلمان شخص پر مذہبی نفرت کی بنیاد پر ہونے والے حملے نے تشویش کی نئی لہر دوڑا دی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے مسلمان شہری کو متعدد بار چاقو مارا اور بعد میں اعتراف کیا کہ اس نے صرف اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز ریاست یوٹا کے شہر ویسٹ ویلی سٹی میں واقع ویلی فیئر مال میں پیش آیا، جہاں متاثرہ شخص ایک کیوسک پر کام کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور، 48 سالہ پیٹر مائیکل لارسن، پہلے متاثرہ شخص کے پاس گیا، اس کا نام اور مذہب پوچھا اور پانی کی بوتل طلب کی۔ جب متاثرہ شخص پانی لینے کے لیے مڑا تو ملزم نے اچانک اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کے جسم پر متعدد گہرے زخم آئے اور وہ شدید زخمی حالت میں خون میں لت پت ہو گیا۔ بعد ازاں اسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی کئی سرجریاں کی جا رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسے تقریباً 15 مرتبہ چاقو مارا گیا۔

واقعے کے بعد وہاں موجود شہریوں نے فوری بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کر لیا اور زمین پر دبا کر رکھا، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش کہا کہ وہ ’مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہے‘ اور اس نے متاثرہ شخص کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی سوچ اور مبینہ منصوبہ بندی کے باعث وہ عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ملزم کے خلاف اقدامِ قتل اور خطرناک ہتھیار استعمال کرنے سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی مسلم تنظیموں، جن میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز بھی شامل ہے نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کا افسوسناک واقعہ قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکا میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اسلاموفوبیا کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں غزہ جنگ، امیگریشن سے متعلق سیاسی بیانات اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔